Posts

بلیو وہیل مچھلی کا دل

Image
‏لو وہیل کا دل مہران کار کے جتنا بڑا اور 1300lbs سے زیادہ وزنی ہوسکتا ہے۔!!!!! ان کا جہازی سائز کا دل ایک منٹ میں آٹھ سے دس مرتبہ دھڑکتا ہے۔ اور اسکی ہر دل کی دھڑک کو دو میل دور سے بندہ سُن سکتا ہے۔ ان کی رگیں اتنی بڑی ہوتی ہیں کہ ایک بالغ انسان ان میں با آسانی تیر سکتا ہے۔ ‏پیدائش کے وقت ان کے بچے کا سائز پچس فٹ ہوتا ہے۔ اور یہ روزانہ دودھ کی 150 گیلن پینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اور یہ اپنی اوائل عمری میں روزانہ 200lbs وزن بڑھاتی ہیں۔ یہ خصوصا جھنگا اور دوسری چھوٹی مچھلیوں کو کھاتی ہیں۔ چند سینٹی میٹر لمبی ان مچھلیوں کا ٹوٹل چھ ٹن تک یہ کھا سکتی ہیں۔ ‏ایک بالغ مچھلی کا سائز 110 فٹ اور وزن ایک سو اسی ٹن ہو سکتا ہے۔اور یہ سیارے پہ موجود سب سے بڑا جانور ہیں۔ قدرت کا کرشمہ یہ مچھلی ایک عجوبے سے بڑھ کر ہے انکی کھوپڑی بھی کافی بڑی ہوتی ہے۔ اور دماغ بھی، لیکن سوچنے ‏سمجھنے یعنی تھاٹ پراسس کی صلاحیت ہمارے پاس ان سے زیادہ ہے۔  تصویر میں ایک مچھلی کے دل کی تصویر ہے.

بہادر شاہ ظفر

Image
  ‏اور پھر ہندوستان کے آخری شہنشاہ بہادر شاہ ظفر کو میکنن میکنزی بحری جہاز میں بٹھا دیا گیا‘ یہ جہاز 17 اکتوبر 1858ء کو رنگون پہنچ گیا‘ شاہی خاندان کے 35 مرد اور خواتین بھی تاج دار ہند کے ساتھ تھیں‘ کیپٹن نیلسن ڈیوس رنگون کا انچارج تھا‘ وہ بندر گاہ پہنچا‘ اس نے بادشاہ اور اس کے بعد ‏حواریوں کو وصول کیا‘ رسید لکھ کر دی اور دنیا کی تیسری بڑی سلطنت کے آخری فرمانروا کو ساتھ لے کر اپنی رہائش گاہ پر آ گیا‘ نیلسن پریشان تھا‘ بہادر شاہ ظفر قیدی ہونے کے باوجود بادشاہ تھا اور نیلسن کا ضمیر گوارہ نہیں کر رہا تھا وہ بیمار اور بوڑھے بادشاہ کو جیل میں پھینک دے مگر ‏‏رنگون میں کوئی ایسا مقام نہیں تھا جہاں بہادر شاہ ظفر کو رکھا جا سکتا‘ وہ رنگون میں پہلا جلا وطن بادشاہ تھا‘ نیلسن ڈیوس نے چند لمحے سوچا اور مسئلے کا دلچسپ حل نکال لیا‘ نیلسن نے اپنے گھر کا گیراج خالی کرایا اور تاجدار ہند‘ ظِلّ سُبحانی اور تیموری لہو کے آخری چشم و چراغ کو اپنے ‏گیراج میں قید کر دیا‘ بہادر شاہ ظفر 17 اکتوبر 1858ء کو اس گیراج میں پہنچا اور 7 نومبر 1862ء تک چار سال وہاں رہا‘ بہادر شاہ ظفر نے اپنی مشہور زمانہ غزل: "لگتا ...

خوبصورت حکایت

‏ایک چڑی اور چڑا شاخ پر بیٹھے تھے  دُور سے ایک انسان آتا دیکھائی دیا۔ چڑی نے چڑے سے کہا کہ اُڑ جاتے ہیں یہ ھمیں مار دے گا۔ چڑا کہنے لگا کہ بھلی لوک دیکھو ذرا اسکی دستار پہناؤا شکل سے شرافت ٹپک رھی ھے یہ ھمیں کیوں مارے گا۔ جب وہ قریب پہنچا تو تیر کمان نکالی اور چڑا مار دیا  ‏چڑی فریاد لے کر بادشاہ وقت کے پاس حاضر ھو گئی۔ شکاری کو طلب کیا گیا۔ شکاری نے اپنا جرم قبول کر لیا۔ بادشاہ نے چڑی کو سزا کا اختیار دیا کہ جو چایے سزا دے۔  چڑی نے کہا کہ اسکو بول دیا جاۓ کہ!! اگر یہ شکاری ھے تو لباس شکاریوں والا پہنے۔ شرافت کا لبادہ اتار دے۔  (مولانا روم)
Image
 

اصحاب کہف کا قصہ

Image
 ‏"اصحاب کہف کا قصہ"!!   ہزاروں سال پہلے کا ذکر ہے کہ روم میں دقیانوس نامی بادشاہ حکومت کیا کرتا تھا وہ بہت ہی ظالم اور درندہ صفت آدمی تھا۔ اللہ پر یقین نہیں رکھتا تھا اور بتوں کی پوجا کرتا تھا، اس کی پوری قوم اللہ کی عبادت سے ناواقف تھی بلکہ سب کے سب بتوں کی پوجا کرتے تھے۔‏اسی بت پرست قوم میں کچھ سمجھدار لوگ بھی رہتے تھے۔ وہ آپس میں اکثر یہ تذکرہ کرتے تھے کہ یہ مٹی کے بت ہیں جنہیں قوم والے خدا سمجھتے ہیں۔ یہ پتھر کی مورتیاں تو اپنی ناک پر بیٹھی ہوئی مکھی بھی نہیں ہٹاسکتیں۔ بھلا انسان کو کیا فائدہ یا نقصان دیں گی، کم عقل لوگ ہیں، اتنی سی بات نہیں ‏سمجھتے پھر بادشاہ بھی عجیب آدمی ہے لوگوں کو سختی کے ساتھ ان کی پوجا کرنے پر زبردستی مجبور کرتا ہے۔ بچو! جو لوگ بتوں کی عبادت سے انکار کرتے تھے، بادشاہ ان کو آگ میں ڈال دیتا تھا، ان کے ناخن کھینچ لیتا تھا۔ اس قوم میں ہر سال عید کا میلہ لگتا تھا جس میں تمام لوگ شرکت کے لیے جاتے ‏تھے، یہاں کُشتیاں ہوتی تھیں، دوڑ کے مقابلے ہوتے اور طرح طرح کے کھیل تماشے ہوتے تھے، سارے انعام تقسیم ہونے کے بعد بتوں کی پوجا ہوتی اور مٹھائی تقسیم ک...

ایک سبق آموز کہانی

Image
ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺯﺟﮭﻨﮓ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﭘﺮﺍﺋﻤﺮﯼ ﺳﮑﻮﻝ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﺎﺩﺭﺣﻤﺖ ﺍﻟٰﮩﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻓﺘﺮ ﻣﯿﮟ ﺍٓﯾﺎ۔ ﻭﮦ ﭼﻨﺪ ﻣﺎﮦ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﻼﺯﻣﺖ ﺳﮯ ﺭﯾﭩﺎﺋﺮﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﯿﻦ ﺟﻮﺍﻥ ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ﺗﮭﯿﮟ ‘ ﺭﮨﻨﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﮔﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ۔ ﭘﻨﺸﻦ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﮨﻮﮔﯽ ‘ ﺍﺳﮯ ﯾﮧ ﻓﮑﺮ ﮐﮭﺎﺋﮯ ﺟﺎﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺭﯾﭩﺎﺋﺮﻣﻨﭧ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﮐﮩﺎﮞ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ۔ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯾﺎﮞ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﮨﻮﮞ ﮔﯽ ‘ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﭘﯿﻨﮯ ﮐﺎ ﺧﺮﭺ ﮐﯿﺴﮯ ﭼﻠﮯ ﮔﺎ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﺮﮔﻮﺷﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﺘﻼﯾﺎ ﮐﮧ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﮐﺌﯽ ﻣﺎﮦ ﺳﮯ ﺗﮩﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﯾﺎﺩﯾﮟ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ ﭼﻨﺪ ﺭﻭﺯ ﻗﺒﻞ ﺍﺳﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﻮﺭ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﮐﯽ ﺯﯾﺎﺭﺕ ﻧﺼﯿﺐ ﮨﻮﺋﯽ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﻮﺭ ﻧﺒﯽ ﺍﮐﺮﻡ ﷺ ﻧﮯ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺟﮭﻨﮓ ﺟﺎﮐﺮ ﮈﭘﭩﯽ ﮐﻤﺸﻨﺮ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺸﮑﻞ ﺑﺘﺎﻭٔ ‘ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻣﺪﺩ ﮐﺮﮮﮔﺎ۔ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺷﮏ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺷﺨﺺ ﺍﯾﮏ ﺟﮭﻮﭨﺎ ﺧﻮﺍﺏ ﺳﻨﺎ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺟﺬﺑﺎﺗﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺑﻠﯿﮏ ﻣﯿﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺷﮏ ﺍﻭﺭ ﺗﺬﺑﺬﺏ ﮐﮯ ﺍٓﺛﺎﺭ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺭﺣﻤﺖ ﺍﻟٰﮩﯽ ﺍٓﺑﺪﯾﺪﮦ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﻭﺭ ﺑﻮﻻ ﺟﻨﺎﺏ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﻮﭦ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻮﻝ ﺭﮨﺎ ‘ ﺍﮔﺮ ﺟﮭﻮﭦ ﺑﻮﻟﺘﺎ ﺗﻮ ﺷﺎﯾﺪ ﺧﺪﺍ ﮐﮯﻧﺎﻡ ﭘﺮﺗﻮ ﺑﻮﻝ ﻟﯿﺘﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺣﻀﻮﺭ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﮐﯿﺴﮯ ﺟﮭﻮﭦ ﺑﻮﻝ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﻮﮞ ‘ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﺱ ﻣﻨﻄﻖ ﭘﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺍﻧﯽ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺳﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ’’...